ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پاکستان کے دہشت گردوں کے خلاف مودی حکومت کارویہ نرم کیوں؟: مولانا غلام رسول بیلیاوی کا سوال

پاکستان کے دہشت گردوں کے خلاف مودی حکومت کارویہ نرم کیوں؟: مولانا غلام رسول بیلیاوی کا سوال

Thu, 04 May 2017 02:43:38    S.O. News Service

رانچی3مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) سابق ممبرآف پارلیمنٹ اور موجودہ ایم ایل سی بہار مولانا غلام رسول بیلیاوی   نیشنل صدر قومی اتحاد مورچہ اور قومی صدر کل ہند ادارۂ شرعیہ ان دنوں چار روزہ دورے پرجھارکھنڈمیں ہیں۔ اسی درمیان رانچی سرکٹ ہاؤس میں علمائے کرام، دانشوران ملت اور قومی اتحاد مورچہ کے ریاستی ذمہ داروں کے درمیان گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ مودی کے تین سالہ دور اقتدار میں مرکزی حکومت سمیت جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، آسام، اتراکھنڈاور یو پی میں یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ سبھی بھاجپا کے زیر اقتدار ریاستوں میں عوام کے ذہن کو بنیادی مسائل سے دور کرنے کے لئے جس ایجنڈے کو نافذ کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں، وہ ملک کے آئینی تقدس کو پامال کرنے اور قانون کی بالادستی کو زیر کرنے کے مترادف بنتی جا رہی ہے۔

ہر روز بھاجپا، آر ایس ایس، بجرنگ دل اور ان جیسی تنظیموں کے دہشت گردوں اور پالتوں غنڈوں سے ملک کی عوام خوفزدہ ہے۔ یہ بات اپنی جگہ مسلم الثبوت ہے کہ مذکورہ تنظیموں کے دو چند افراد جو قانون اور آئین کی پرواہ کئے بغیرسیکولر عوام، سیکولرزم خصوصاً مسلم اقلیتوں کے خلاف جو زہرافشانی کر رہے ہیں، وہ در حقیقت ملک و بیرون ملک میں ہندوستان کے اکثریتی طبقے کو کمزور کر رہے ہیں۔ مولانا بیلیاوی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قدر صحتمند وزیر اعظم پوری دنیا میں اپنی شخصیت کا لوہا منوانے کی جد و جہد کر رہے ہیں، ان کی گرفت سے یہ سنگھی دہشت گرد باہر ہیں۔ ایک طرف وزیر اعظم غیر ممالک سے ہندوستان کے ساتھ سبھی شعبوں میں کاروبار کی ارتقاء اور صنعت کو فروغ دینے جیسے سمجھوتوں پر دستخط کئے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف انہیں کے دو چند افراد کے ذریعہ ہندوستان کی ایک بڑی آبادی کو نشانہ بنائے جانے کے سبب معاہدہ کے باوجود بھی کوئی کمپنی ہند میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہے۔ مولانا بیلیاوی نے کہا کہ جس طرح سے ملک کی سرحدوں پر مامور جوانوں کی شہادت ہو رہی ہے اور جس طرح چھتیس گڑھ کے سکما میں جو جوان شہید ہوئے یہ سب مادر وطن کے سپوت تھے۔ اور سکما میں جن کے ذریعہ اتنی بڑی تعداد میں جوانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، وہ تمام حملہ وروں کو ہندوستان کی شہریت حاصل ہے۔ فوجی جوانوں کی حفاظت میں اور ملک کی سرحدوں کی تحفظ میں مودی حکومت مکمل طور سے فیل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کیا یہ بتائے گی کہ نکسلواد کی عمر کتنی ہے؟ تیس سال پہلے آتنکواد کہاں تھا؟ ہاں یہ بھی صحیحہے کہ بندے ماترم کہہ کر ماحول کو جذباتی زہریلا بنایا جا سکتا ہے، جے شری رام کا نعرہ لگا کر مذہبی شدت پیدا کی جا سکتی ہے، جے گنگا کہہ کر گنگا کے تئیں چھوٹی ہمدردی دکھائی جا سکتی ہے، مگر یہ کڑوا سچ ہے کہ بندے ماترم سے محب وطن نہیں بنایا جا سکتا، جے گنگا سے گنگا کی صفائی نہیں کرائی جا سکتی، آتنک کے خلاف جذباتی نعروں سے ووٹ تو لیا جا سکتا ہے، مگر دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لئے سنجیدگی سے ان تمام بنیادی جڑوں تک پہنچنا ہوگا کہ ہندوستان کا شہری نکسلی کیوں ہوا؟ سرحد پار سے آتنکی آنا جانا کیسے کرتے رہتے ہیں؟ مولانا غلام رسول بیلیاوی نے اظہار دکھ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس وقت آستھا کے نام پر ہر روز ایک نیا فتنہ پید اکیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے صبر کا ہر شام امتحان لیا جا رہا ہے۔ لیکن کن کن چیزوں میں آستھا ہے، اس کی فہرست کچھ تو ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ گائے میں کچھ لوگوں کی آستھا ہے، تو چوہا بھی ان کے کسی دیوتا کی سواری ہے، سانپ بھی کرشن کے گلے کا مالا ہے، الو بھی لکشمی کی سواری ہے، خنزیر بھی کسی دیوتا کا دوت ہے، بندر بھی ان کی سینا ہے،تو صرف گائے کے پیچھے ہی رکچھک کیوں پڑے ہیں؟ خنزیر، بندر، چوہے، سانپ کی حفاظت کے لئے بھی ان نام نہاد ملک کے لئے مضر تنظیموں کے ٹھیکیداروں کو چاہئے کہ وہ کسی واہنی کا گٹھن کریں۔ مولانا بیلیاوی نے صاف لفظوں میں کہا کہ سنگھ پریوار کے جتنی بھی تنظیمیں ہندووت کے نام پر وزیر اعظم نریندر مودی اور بھاجپا زیر اقتدار وزراء اعلیٰ سے رنگداری وصولنے والی جماعتیں ہیں، انہیں چاہئے کہ جس ممنوعہ گوشت کے بہانے نفرت کی سیاست کر رہی ہے، وہ یہ بتائیں کہ پوری دنیا میں ممنوعہ گوشت کے ایکسپورٹ کرنے والی کمپنیوں کے مالکان کون کون لوگ ہیں؟ اور ان کو یہ بھی چاہئے کہ سانپ بچھواور بندر کی سورکچھا کے لئے بے لگام سورکچھا سنگٹھنوں کی تشکیل کریں۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو ملک میں نفرت پیدا کرنے والوں، گائے سورکچھاکے نام پر انسانوں کا قتل کرنے والوں اور زہرافشانی کرنے والوں کے خلاف مرکزی حکومت اور بھاجپا کے زیر انتظام ریاستی حکومتوں نے کون سی قانونی کارروائی کن کن لوگوں پر کی؟ یہ ملک کو بتانا چاہئے۔ 

مولانا بیلیاوینے کہا کہ اس تین سالہ دور اقتدار میں کتنے جوان شہید ہوئے؟ کتنے دہشت گرد مارے گئے؟کتنے جوان شہید ہوئے اور کتنے نکسلی مارے گئے؟ اس کی تفصیلات سے بھی ملک کو واقف کرانا چاہئے۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر ملک کی معیشت کو کمزور کرنے والی پالیسی کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب تک غیر ملکوں سے کس کس شعبے میں کس قسم کے اشتراکی کاروبار ہوا اور کہاں کہاں صنعت میں، مالیات میں، زراعت میں، قدرتی گیس میں، رئیل اسٹیٹ میں اور کن کن زمرے میں کوئی ایک بھی ہو تو بتا دیں، جس سے ملک کو فائدہ ہوا ہے۔ ہاں البتہ یہ بات ضرور دیکھنے کو آئی ہے کہ پہلے ہندوستان کی ہر ملکیت کا مالک ہر ہندوستانی سمجھتا تھا، مگر اب کل 52افراد ہیں، جو اس ملک کے ہر ایک وراثت کے مالک ہیں۔ اور ستم ظریفی یہ کہ یہ 52افراد میں نہ تو وزیر اعظم ہیں اور نہ ہی بھاجپا زیر انتظام ریاستوں کے وزراء اعلیٰ ہیں۔ باوجودیکہ ان 52افراد کے ایک اشارے پر ارباب اقتدار ہر وہ کام کر لیتے ہیں، جو کسی بھی منتخب اشخاص کو ہرگز نہیں کرنا چاہئے۔ قومی اتحاد مورچہ کے نیشنل صدر نے کہا کہ بے روزگاری کا عالم یہ ہے کہ بی پی ایل کی فہرست بڑھتی جا رہی ہے اور مزدوروں کا قحط یہ کہ کسی کو فرصت ہی نہیں واٹ سپ اور سوشل میڈیا میں پورے ملک کو اس قدر مصروف کر دیا گیا ہے کہ ملک کا 75فیصد حصہ گھریلو تناؤ سے متاثر ہو چکا ہے۔ جذباتی نعروں سے متاثر ہو کر بھاجپا کو منتخب کرنے والی عوام اپنے بیٹے اور بیٹیوں کی اسکولی اور تعلیمی فیس دینے سے قاصر ہیں۔ عام انتخابات ہونے میں ابھی دو سال کا وقت ہے، لیکن آئندہ انتخاب کی تیاری نئے نعروں کے ساتھ بھاجپا اور اس کی معاون تنظیمیں میدان عمل میں سر گرم ہے اور سیکولر کہلانے والی سبھی پارٹیاں بن محنت کے اقتدار میں رہنے والے لیڈران مطمئن ہیں کہ عوام تھکنے کے بعد واپس انہیں کے یہاں جائے گی۔ مگر یہ خام خیالی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اور اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آر ایس ایس، مودی، یوگی، توگڑیا، پراچی، ساکچھی اور ان جیسے لوگ 10-5سال کے پیداوار نہیں ہیں، بلکہ جن کے ہاتھوں میں عرص دراز تک ملک نے اقتدار دیا تھا، اگر وہ ان کے تئیں سنجیدہ ہوتے، قانون و ملک کے تئیں فرشناس ہوتے تو اتنی بیماریاں ہندوستان میں ایک ساتھ کبھی پیدا نہ ہوتیں۔ مولانا بلیاوی نے کہا کہ آتنکواد کے خلاف لڑنا ہر ہندوستانی کا مذہبی اور ملکی فریضہ ہے اور ہمیشہ مسلمانوں نے پورے اخلاص کے ساتھ عزم مصمم کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کیا ہے اور کرتے رہیں گے۔ مگر دہشت گردوں کے خلاف لڑی جا رہی جنگ کی تحریک میں یہ زہر افشانی کرنے والے سنگھی لیڈران کی وجہ سے تحریک کمزور ہو رہی ہے۔ ان تمام زہریلے لیڈران کو معلوم ہونا چاہئے کہ جس دن ہندوستان کا مسلمان تمہارے نام نہاد اور ٹارگیٹیڈ صرف اور صرف حصول اقتدار کے لئے دہشت گردی کے خلاف جھوٹا نعرہ لگانے کے خلاف اپنے بل بوتے پر پوری طاقت کے ساتھ جس دن سڑکوں پر اتر جائے، تواسی دن ملک میں کئی طرح کے دہشت گردوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب ، قومی ہم آہنگی، دہشت گردی کا خاتمہ، فرقہ پرستی کا سد باب، آپسی اختلافات کی روک تھام، ملک میں رواداری اقدار کے فروغ اور سیکولرزم کے تحفظ کے لئے قومی اتحاد مورچہ اور مسلمانوں کے دیگر ملی، فلاحی تنظیمیں اور سربراہان ملک کی تازہ صورت حال کے پیش نظر سر جوڑ کر بیٹھنے لگے ہیں۔ ان تمام پہلوؤں پر مبنی قومی اتحاد مورچہ حب الوطنی کے دھاگے کو مضبوط کرنے، تعلیمی، سیاسی، فلاحی، سماجی، معاشرتی اور ہم آہنگی کے لئے گاؤں گاؤں تک رابطہ میں آ چکا ہے۔ انہوں نے ہر چھوٹی بڑی تنظیموں کے ذمہ داران سے مخلصانہ اپیل کیا کہ وہ اگر اکیلے نماز پڑھیں گے تو صرف نماز کا ثواب ملے گا، مگر سب کو لے کر ایک ساتھ نماز پڑھیں گے تو نماز کا بھی ثواب ملے گا اور جماعت کا بھی ثواب ملے گا۔ ساتھ ہی اتحادی قوت کے اظہار سے بنیادی مسائل بھی حل ہوتے رہیں گے۔قومی اتحاد مورچہ کے صدر مولانا غلام رسول بیلیاوی نے ریاست جھارکھنڈ کے حالیہ دنوں مختلف اضلاع میں مثلاً لاتیہار، لوہردگا، رانچی، ہزاری باغ، رام گڑھ، گریڈیہہ، کوڈرما، چترا، گڑھوا، پلاموں، دیوگھر، دمکا اور گڈا میں چل رہے مورچہ کے ممبری مہم کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ یہ مہم بہت ہی ہمت افزا ہے اور بہار و جھارکھنڈ میں مسلمانوں کے درمیان یہ احساس ہونے لگا ہے کہ مورچہ مسلمانوں کے مستقبل کی آواز ہے۔ جوانوں اور بزرگوں کے علاوہ خواتین کی خاطر خواہ اس مہم میں اور ممبری شپ میں شمولیت سے اس کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہر ضلع سے بڑی تعداد میں خواتین بھی مورچہ کا حصہ بن رہی ہیں۔ جن کے ذمہ اولادوں کی صحیح تربیت، تعلیم کے تئیں سنجیدگی اور حقوق کے تئیں بڑے پیمانے پر بیداری مہم بھی چلایا جانا ہے۔ انہوں نے جھارکھنڈ کی رگھور حکومت سے صاف لفظوں میں کہا کہ ریاستی حکومت نے قریشی برادران اور چکن مٹن روزگار سے جڑے خاندان کے بال بچوں کو تعلیم اورروزی روٹی سے دور کر دیا ہے، جو قطعی متوازی انصاف نہیں ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان کے بنیادی مسائل پر خصوصی توجہ دے۔ ساتھ ہی ریاست کے مسلم، دلت، آدیواسی اور تمام اقلیتوں کے درمیان عدم تحفظ کے جو احساسات ہیں، اسے بلا تاخر دور کرے۔

مولانا بیلیاوی نے عامۃ المسلمین سے کہا ہے کہ وہ دو چند سرپھرے لوگوں کی زہرافشانی سے قطعی نہ گھبرائیں، بلکہ جمہوریت کی پاسداری رکھتے ہوئے، بھائی چارگی کے ماحول میں اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے جہد مسلسل کرتے رہیں۔ رانچی سرکٹ ہاؤس میں غازی ملت مولانا غلام رسول بیلیاوی کے ساتھ ملک اور ریاست کے سلگتے ہوئے مسائل پر گفتگو کے درمیان مولانا قطب الدین رضوی، مولانا تاج الدین، مظہر علی صدیقی، معیز اختر، مولانا مجیب الرحمن، قاری محمد ایوب، مولانا جسیم الدین، فیروز خلیفہ، بابر قریشی مولانا حبیب عالم، پرویز اختر، محمدا ختر عالم، مفتی ارشاد احمد، مفتی عبد القدوس، مولانا ریاض الدین، ڈاکٹر عطاء اللہ اور دیگر عمائدین موجود تھے۔


Share: